مینگلور،3 / مئی (ایس او نیوز) بجرنگ دل کی غیر اخلاقی پولیس گیری کے تازہ واقعہ میں ایک مسلم طالب علم پر قریبی علاقہ پُتور میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کالج میں اپنے ساتھ پڑھنے والی ایک ہندو طالبہ کے ساتھ بات چیت کرتا ہوا پایا گیا ۔ حملہ میں زخمی طالب علم فارس (18 سال) کو علاج کے لئے پتور سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ فارس سرکاری پی یو کالج میں فرسٹ ایئر کا طالب علم ہے ۔ اس نے بتایا کہ " میری ہم جماعت طالبہ کے بلانے پر میں اس سے ملنے چلا گیا تھا ۔ پھر ہم لوگوں نے ایک پارلر میں جوس پیا ۔ اس کے بعد تقریباً 15 بجرنگیوں کے ٹولے نے مجھے گھیر لیا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم دونوں صرف دوست ہیں ۔ مگر انہوں نے وائر، لاٹھیوں اور تلواروں سے مجھ پر حملہ کیا ۔ گرم لوہے کا ایک ٹکڑا میری گردن پر رکھا گیا ۔ پولیس میں شکایت درج نہ کرنے کی تنبیہ کی ۔"
جبکہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکرم اماتھے نے بتایا کہ دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان ملزمین کا تعلق کسی ہندوتوا گروہ سے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے ۔